برطانوی
اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ برطانیہ کے ایم کیو
ایم کے سربراہ کو ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنے اور لندن میں ان کی
سرگرمیوں کو نظر انداز کی وجہ ایم کیو ایم کا وہ تعاون ہے جو وہ برطانوی
انٹیلجنس ایجنسیوں کو مہیا کرتی ہے۔
گارڈین کی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ کراچی
شاید دنیا کا وہ واحد شہر ہے جہاں امریکہ نے برطانیہ کو انٹیلجنس کے حصول
میں ’لیڈ رول‘ کی اجازت دے رکھی ہے۔"برطانوی وزارت داخلہ کےایک اہلکار نےاخبار کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا لندن میں قیام کسی برطانوی سازش کا حصہ نہیں ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ یہ سازش نہیں ہے بلکہ ایک پالیسی ہے۔"
برطانوی وزارت داخلہ کےایک اہلکار نےاخبار کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا لندن میں قیام کسی برطانوی سازش کا حصہ نہیں ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ یہ سازش نہیں ہے بلکہ ایک پالیسی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں پاکستان کی کئی حکومتوں نے لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما کو پاکستان حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن برطانیہ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے ایک مرتبہ برطانوی حکومت سے کہا تھا کہ ان کو کیسا لگے گا کہ اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر برطانیہ میں لوگوں کو تشدد پر اکسائے۔
تحریک انصاف کےحامیوں نے برطانوی پولیس کو الطاف حسین کے بارے میں بارہ ہزار شکایت درج کرائی ہیں
لندن کی پولیس یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر کراچی میں لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں۔ برطانوی پولیس کو ایک انتہائی بڑے مواد کی چھان بین کرنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق الطاف حسین کے لندن میں قیام کے دوران دو بار برطانوی عدالتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ایم کیو ایم اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہے۔
دو ہزار دس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس افسر نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اسے کراچی میں ایم کیو ایم سے خطرہ ہے۔
برطانوی جج لارڈ باناٹائن نے اس پولیس افسر کو سیاسی پناہ دینے حکم جاری کیا۔ جج نے تسلیم کیا کہ ایم کیو ایم نے دو سو ایسے پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تھا۔
برطانوی پولیس اب لندن میں ایم کیو ایم کے ایک رہنما عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے بارہ افسران مکمل طور پر اس مقدمے پر مامور ہیں اور اب تک سینکڑوں لوگوں کے بیانات قلمبند کر چکے ہیں۔
ایم کیو ایم کے بھارت سے روابط
"قتل کی تحقیقات کے دوران برطانوی پولیس کو عمران فاروق کے گھر سے ایسے کاغذات بھی ملے ہیں جو پاکستان میں گرفتار ہونے والے ایم کیوایم کے کارکنوں کے ایسے بیانات کی تائید کرتے ہیں کہ انہیں بھارت میں دہشتگردی کی تربیت ملتی ہے"
گارڈین رپورٹ
گارڈین نے بھارت سے ایم کیو ایم کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق جاننا چاہا لیکن بھارت نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
میٹرو پولیٹن پولیس نے لندن میں ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپے کے دوران 150,000 پونڈ اور مشرقی لندن کے علاقے مل ہل میں الطاف حسین کی رہائش سے0 250,00 پونڈ برآمد کیے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنی بڑی رقم وہاں کیسے پہنچی۔
رپورٹ کے مطابق الطاف حسین کےخلاف تحقیقات انتہائی پیچدہ معاملہ ہے۔ پاکستانی ریاست میں کچھ عناصر ایم کیو ایم کا تحفظ چاہتے جبکہ ملک کی بڑی انٹیلجنس ایجنسی آئی ایس آئی اس کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتی ہے۔
الطاف حسین کو مستقل سکونت دینے کا فیصلہ ایک ’دفتری غلطی‘ کا نتیجہ تھا: رپورٹ
برطانوی پولیس نےحالیہ ہفتوں میں الطاف حسین کےخلاف جو کارروائیاں کی ہیں ان میں ان کےگھر اور دفاتر پر چھاپوں کےعلاوہ ان کے بھانجے اشتیاق احمد کو گرفتار کرنا ہے۔ اشتیاق احمد کو کس الزام پر گرفتار کیاگیا تھا اس کے بارے میں برطانوی پولیس کچھ بتانے کے لیے تیار نہیں۔ اشتیاق احمد کو ستمبر تک ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔
ہوم آفس کی غلطی
"پاکستانی سمجھتے ہیں کہ برطانوی حکومت الطاف حسین کی حامی ہے۔ وہ اس سلسلے میں الطاف حسین کو برطانیہ میں مستقل سکونت کا حوالہ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک برطانوی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر تسلیم کیا کہ 1999 میں الطاف حسین کو مستقل سکونت دینے کا فیصلہ ایک ’دفتری غلطی‘ کا نتیجہ تھا۔"
گارڈین رپورٹ
رپورٹ کے مطابق ہوم آفس نے کئی بار پوچھنے کے باوجود اس ’دفتری غلطی‘ کی وضاحت نہیں کی۔
پاکستانی الطاف حسین کے اس خفیہ خط کا بھی حوالہ دیتے ہیں جو انہوں نے نائن الیون کے واقعے کے دو ہفتوں بعد برطانوی حکومت کو لکھا تھا۔ اس خط میں الطاف حسین نے برطانوی حکومت کے لیے افغانستان اور پاکستان میں انٹیلیجنس اکھٹےکرنے کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔الطاف حسین نےبرطانوی حکومت کو یقین دلایا کہ وہ پانچ دنوں کے نوٹس پر لاکھوں لوگوں کو دہشتگردی کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے اکھٹے کر سکتے ہیں۔
برطانوی حکومت ماضی میں ایسے کسی خط کی تردید کرتی رہی ہے لیکن اب اسے تسلیم کر لیا ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/07/130729_altaf_hussain_guardian_ra.shtml
No comments:
Post a Comment