بھارتی
فلمیں عشق اور محبت کی قمار کاری کو ’’کارآساں‘‘ بنا کر دکھاتی ہیں اور اس
میں ہونے والے جاں کے زیاں کو اوجھل کر دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ
لڑکیاں کچھ زیادہ سوچے سمجھے بغیرہی گھروں سے بھاگ جاتی ہیں یا لڑکے انہیں
ورغلا کر لے جاتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اس انجام کو پہنچ جاتے ہیں جس
کی کوئی تفصیل فلم میں نہیں ہوتی او رہوتی بھی ہے تو اس طرح کہ ’’موت‘‘
بھی ’’گلیمرائزڈ‘‘ بنا دی جاتی ہے۔فلم میں لوگ شہدائے محبت کے مزاروں پر
پھول چڑھاتے ہیں اور سینما ہال کی فضا سسکیوں سے بھر جاتی ہے۔ ’’فلم
اکیڈمی‘‘ کے طلبہ یہ نہیں جانتے کہ یہی سسکیاں بھرنے والے سینما ہال سے
باہر نکل کر ’’محبت‘‘ کے دشمن بن جاتے ہیں اور موت صرف فلم ہی میں حسین
لگتی ہے‘ باہر کی دنیا میں بہت تکلیف دہ ہے اور اس سے گھر اجڑ جاتے ہیں اور
ان اجڑے گھروں پر پھول چڑھانے کوئی نہیں آتا۔ حقیقی دنیا میں ایسی لڑکیوں
اور لڑکوں کو آوارہ اور بدچلن ہونے کا طعنہ تو ملتا ہے‘ شہادت کا تمغہ کوئی
نہیں دیتا۔
اور فلمیں ایسا کاروبار ہیں جس کی بنیاد ہی دھوکے پر ہے۔
بھارت میں فلمیں سب سے زیادہ دو ہی موضوعات پر بنتی ہیں۔ ایک جرم دوسرے عشق
و محبت اور دونوں میں بھارتی معاشرے کی اصل تصویر دور دور تک دکھائی نہیں
دیتی۔ پچھلی دو دہائیوں سے ایسی فلمیں دکھانے کا رجحان زور پکڑ گیا ہے جن
کے کردار ’’ہائی سوسائٹی‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان فلموں کو دیکھ کر لگتا ہے
کہ بھارت میں صرف ہائی سوسائٹی رہتی ہے۔ بہت بڑے بڑے بنگلے‘ ان کے اندر
ایسے سوئمنگ پول کہ پانی میں راجہ اندر نے سبھا جما رکھی ہے۔ ہر بنگلے میں
ایک سے ایک مہنگی گاڑی۔ بچے ایسے سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں کہ جن کے
سامنے آکسفورڈ اور ہارورڈ کی کچھ اوقات ہی نہیں۔ پرتعیش اور شاہانہ اور
کبھی نہ ختم ہونے والی پکنک جیسی زندگی دکھانے والی یہ فلمیں نہ صرف فلم
بینوں کو بھارت کی اصل تصویر نہیں دیکھنے دیتیں بلکہ ان کے اندر ایسا احساس
محرومی پیدا کرتی ہیں کہ وہ یا تو مجرم بن جاتے ہیں یا ایسے لوگ جن کے
اندر کی صلاحیتیں محرومی اور کمتری کے بھاری بھرکم احساس تلے کچلی جاتی
ہیں۔ بھارتی حکومت نے جگمگ کرتا بھارت کا سیاسی نعرہ دیا تھا‘ بھارت
فلمسازوں نے اسے کاروباری سٹنٹ بنا لیا اور یہ نعرہ ان کیلئے سونے کا انڈہ
دینے والی مرغی ثابت ہوا۔ اب ہر بھارتی فلم جگ مگ کرتے بھارت کی جگمگاتی
تصویر ہے۔ چنانچہ ہر کوئی بھارتی فلموں کے خواب نگر کی سیر کیلئے مرا جاتا
ہے۔ اس کی پریوں کی جھلک شائقین کو دیوانہ بناتی ہے۔ اس کے خوابزادے انہیں
بھی ’’ہیرو‘‘ بننے کیلئے اکساتے ہیں۔ وہ خوابستان کی پرواز کے لئے مچل
اٹھتے ہیں لیکن بال وپر کہیں سے نہیں ملتے تو احساسِ محرومی کے خطرناک جنگل
انہیں نگل جاتے ہیں۔ کوئی سماجی ادارہ ریسرچ اور سروے کرے تو پتہ چلے گا
کہ معاشرے کی کتنی ہی برائیاں ان فلموں کی وجہ سے بے قابو ہوگئی ہیں۔
فلم بینوں کو برا نہیں منانا چاہئے اگر یہ کہا جائے کہ بھارت کی فلمیں اکا
دکا کو چھوڑ کرسب کی سب شیطانی ہوتی ہیں۔ بھارتی فلموں کا دائرہ اثربہت
وسیع ہے۔دنیا کی یہ دوسری یا شاید تیسری بڑی فلمی صنعت ہے اس کے فلم بین
روس وسط ایشیا مشرق وسطیٰ سے لے کر ان تمام ممالک میں ہیں جہاں اردو یا
ہندی سمجھنے والے رہتے ہیں۔ نائیجیریا کی فلمی صنعت نے افریقہ کے شہری
علاقوں میں دولت کی اچانک بڑھتی ہوئی ریل پیل کے باعث ایک دم سر نکالا ہے
اور اب شاید عالمی منڈی میں ’’نالی ووڈ‘‘ نامی اس صنعت کی دوسری نہیں تو
تیسری پوزیشن ضرور ہے۔اس کے فلم بینوں کا حلقہ بھارتی فلم بینوں سے بھی بڑا
ہے یعنی صرف افریقہ نہیں، یورپ اور شمالی جنوبی وسطیٰ امریکہ کے وہ سارے
ملک جہاں افریقی نژاد رہتے ہیں اور افریقی فلمیں یورپی نژاد لوگ بھی اتنے
ہی شوق سے دیکھتے ہیں۔
سب سے بڑی مارکیٹ تو ہالی ووڈ کی فلموں کی ہے
اور ہالی ووڈ کی فلمیں صرف وہی نہیں جو ہالی ووڈ میں بنتی ہیں‘ امریکہ میں
بے شمار ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ فلمساز بھی ہیں ان کی فلمیں بھی ’’انڈی‘‘ کے بریکٹ
کے ساتھ ہالی و وڈ سے منسوب کی جاتی ہیں اور اگر بھارت کی فلمیں شیطانی
ہیں تو ہالی ووڈ کی ساتھ میں دجّالی بھی۔50سے70ء کی دہائیوں میں آرٹ کے
ماسٹر پیس کہلانے والی درجنوں نہیں، بیسیوں فلمیں بنیں لیکن ہالی ووڈ کا
معیار اب بھولی بسری کہانی ہے۔
جرائم کی امریکی فلمیں خود امریکہ اور
ساری دنیا میں جرائم پھیلا رہی ہیں تو اس کی دجّالی فلمیں لوگوں کے دماغ
مفلوج کر رہی ہیں۔ خاص طور سے وہ فلمیں جو سائنس فکشن کہلاتی ہیں۔ یہ ماڈرن
فیری ٹیلز ہیں جو سائنسی کرداروں اور آلات کا سہارا لیتی ہیں لیکن ان میں
ایک بھی سائنسی سچائی نہیں ہوتی۔ یہ فلمیں ہزاروں قسم کی ’’ایلین‘‘ اور
’’ڈومیسٹک‘‘ بلاؤں اور عفریتوں کی ناقابل یقین طاقتیں دکھاتی ہیں جن کو ان
سے بھی زیادہ ناقابل یقین طاقت والے امریکی سپر ہیرو شکست دیتے ہیں۔ پھر
’’پیرا نارمل‘‘ فلموں کے نام پر جھوٹ کا ایسا کھیل کہ کوئی حد ہی نہیں۔ یہ
سائنس فکشن اور پیرانارمل فلمیں دجّال کا وہ ہتھکنڈہ ہیں جس کی مدد سے وہ
حضرت مسیحؑ کی آمد ثانی سے نمٹنے کیلئے میدان ہموار کر رہا ہے۔اور مقابلے
کے لئے پوری دنیا میں ایک بھی ’’دجّال دشمن‘‘ فلم بنانے والا ادارہ نہیں۔
شاید فلم دجّال دشمنوں کا میدان ہی نہیں ہے۔
(عبدالله طارق سہیل)
No comments:
Post a Comment